قیدی عورتوں سے ہم بستری کرتے وقت عزل کرنے یا نہ کرنے پر محمد کی رائے
5۔ قیدی عورتوں سے ہم بستری کرتے وقت عزل کرنے یا نہ کرنے پر محمد کی رائے
محمد کے ساتھی ان عورتوں سے ہم بستری کرنا چاہتے تھے جو جنگ میں قیدی بنائی گئی تھیں۔ انہوں نے محمد سے پوچھا کہ کیا عزل کرنا ٹھیک ہے۔ محمد نے کہا کہ عزل کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اگر اللہ نے بچہ چاہا تو وہ بہرحال پیدا ہو کر رہے گا۔
ایک صحیح حدیث سے
”اے ابو سعید، کیا آپ نے اللہ کے رسول کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اور مزید بتایا: ہم اللہ کے رسول کے ساتھ غزوہ بنو المصطلق پر نکلے اور کچھ عمدہ عرب عورتیں قیدی بنائیں؛ اور ہمیں ان کی خواہش ہوئی، کیونکہ ہم اپنی بیویوں سے دوری کی تکلیف میں تھے، (لیکن اس کے ساتھ ہی) ہم ان کا فدیہ بھی چاہتے تھے۔ چنانچہ ہم نے طے کیا کہ ان سے ہم بستری کریں گے مگر عزل کے ساتھ (حمل سے بچنے کے لیے انزال سے پہلے عضوِ تناسل کو باہر نکال لینا)۔ لیکن ہم نے کہا: ہم ایک ایسا کام کر رہے ہیں جبکہ اللہ کے رسول ہمارے درمیان موجود ہیں؛ ہم ان سے پوچھ کیوں نہ لیں؟ چنانچہ ہم نے اللہ کے رسول سے پوچھا، تو آپ نے کہا: اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ قیامت کے دن تک جس روح نے بھی پیدا ہونا ہے، وہ پیدا ہو کر رہے گی۔“ صحیح مسلم 1438a