محمد نے جنگ میں پکڑی گئی ایک قیدی لڑکی سے علی کی ہم بستری کو درست ٹھہرایا اور کہا کہ وہ اس سے بھی زیادہ کا حق دار ہے
4۔ محمد نے جنگ میں پکڑی گئی ایک قیدی لڑکی سے علی کی ہم بستری کو درست ٹھہرایا اور کہا کہ وہ اس سے بھی زیادہ کا حق دار ہے
ایک صحیح (مستند) حدیث میں علی (محمد کے چچا زاد بھائی، داماد، اور شیعہ اسلام کی مرکزی شخصیت) نے مالِ غنیمت میں سے ایک قیدی لڑکی لی اور اس کے ساتھ ہم بستری کی۔ جب کسی نے اس کی اطلاع دی تو محمد نے کہا کہ علی اس سے بھی زیادہ کا مستحق ہے۔
ایک صحیح حدیث سے
”نبی (ﷺ) نے علی کو خالد کے پاس (مالِ غنیمت کا) خمس لانے کے لیے بھیجا، اور مجھے علی سے نفرت تھی، اور علی غسل کر چکا تھا (خمس کی ایک لونڈی کے ساتھ ہم بستری کے بعد)۔ میں نے خالد سے کہا، ’کیا تم اس (یعنی علی) کو نہیں دیکھ رہے؟‘ جب ہم نبی (ﷺ) کے پاس پہنچے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے کہا، ’اے بریدہ! کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟‘ میں نے کہا، ’جی ہاں۔‘ آپ نے کہا، ’کیا تم اس سے اس لیے نفرت کرتے ہو کہ وہ خمس میں سے اس سے بھی زیادہ کا مستحق ہے۔“ صحیح بخاری 4350